تازہ ترین خبر
ہوم / Uncategorized / عمران خان کی سونامی بونیر میں

عمران خان کی سونامی بونیر میں

عمران خان کے کل کے بونیر کے جلسے نے پختونخواہ کی سیاسی فضاء کو مکمل طور پر تبدیل کردیا، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تحریک انصاف بونیر میں اتنا بڑا جلسہ کرسکتی ہے، گورنمنٹ ڈگری کالج ڈگر کے ساتھ ملحقہ گراؤنڈ رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا ہے، وہ نہ صرف سارا بھر گیا تھا بلکہ قریب کی عمارتوں کی چھتوں، گراؤنڈ کی چار دیواری پر بھی لوگ چڑھے تھے یہاں تک کہ گراؤنڈ کے کناروں کے ساتھ لگے درختوں پر بھی لوگ چڑھے تھے، محتاط اندازے کے مطابق جلسے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد پینتالیس ہزار سے زیادہ تھی کم نہیں تھی،_

دراصل یہ جلسہ بونیر سے جماعت اسلامی کے موجودہ قومی اسمبلی کے ممبر شیراکبر خان کے بھائی اور بیٹے، بونیر کے حلقہ پی کے 77 سے صوبائی اسمبلی کے سابق ممبر اور دوہزار تیرہ کے انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والے حاجی جمشید خان کی تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت کے لئے منعقد کی گئی تھی، گزشتہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی کی جن دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اس میں بونیر کی این اے 28 بھی شامل تھی جن پر تحریک انصاف کے میاں معین الدین کے مقابلے میں جماعت اسلامی کا شیراکبر خان کامیاب قرار پائے تھے یاد رہے کہ میاں معین الدین، شیراکبر کے مقابلے میں چند سو ووٹوں سے ہار گئے تھے اور شہرام خان ترکئی نے نومبر 2015 میں ہی اپنی پارٹی کو پی ٹی آئی میں ضم کیا تھا جس کے بعد تحریک انصاف بونیر میں ایک مضبوط جماعت بن چکی تھی اور اب مضبوط ترین جماعت بن گئی. محمد شاہد خان نے ایم این اے شیر اکبر خان کے بھائی فاروق خان اور سابق ایم پی اے جمشید خان کا دلکش استقبال کیا اور قیادت کے ہر فیصلے دل سے خیر مقدم کیا.

چوں کہ شیراکبر جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے ممبر بنے تھے اس لئے کل کے جلسے میں انہوں تحریک انصاف میں باضابطہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا ہے البتہ ان کے بیٹے اور حاجی جمشید خان باضابطہ طور پر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے..

شیراکبر خان بونیر کے مشہور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، بونیر کا سیاسی طور پر سب سے مضبوط خاندان تصور کیا جاتا ہے، اس خاندان کے پاس اپنا ذاتی ووٹ بینک کافی موجود ہے اس لئے جب بھی موصوف کسی جماعت کا حصہ بن جاتا ہے تو قومی اسمبلی کی اور پی کے 78 کی سیٹ اس پارٹی کی پکی سمجھی جاتی ہے،__

بونیر میں شیراکبر اور جمشید خان کی تحریک انصاف میں شمولیت سے پہلے بھی ووٹ بینک کافی اور تینوں صوبائی حلقوں میں پھیلا ہوا تھا، اگر یہ دونوں تحریک انصاف کا حصہ نہ بھی بن جاتے تب بھی تحریک انصاف قومی اسمبلی کی سیٹ بغیر کسی مشکل کی جیت جاتی، ان کی شمولیت سے یہ ہوا کہ تینوں صوبائی حلقوں میں بھی تحریک انصاف کافی مضبوط ہوگئی ہے_ بلدیاتی انتخابات میں بھی تحریک انصاف نے ضلعی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی تھی لیکن عوامی نیشنل پآرٹی اور جماعت کے اتحاد سے تحریک انصاف اپوزیشن میں رہ گئی…

ضلع بونیر میں عمران خان کی آمد نے تو مخالفین کو حواس باختہ کردیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسرے اضلاع میں تحریک کتنی کامیاب رہتی ہے….
عمران خان کی سونامی بونیر میں

عمران خان کے کل کے بونیر کے جلسے نے پختونخواہ کی سیاسی فضاء کو مکمل طور پر تبدیل کردیا، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تحریک انصاف بونیر میں اتنا بڑا جلسہ کرسکتی ہے، گورنمنٹ ڈگری کالج ڈگر کے ساتھ ملحقہ گراؤنڈ رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا ہے، وہ نہ صرف سارا بھر گیا تھا بلکہ قریب کی عمارتوں کی چھتوں، گراؤنڈ کی چار دیواری پر بھی لوگ چڑھے تھے یہاں تک کہ گراؤنڈ کے کناروں کے ساتھ لگے درختوں پر بھی لوگ چڑھے تھے، محتاط اندازے کے مطابق جلسے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد پینتالیس ہزار سے زیادہ تھی کم نہیں تھی،_

دراصل یہ جلسہ بونیر سے جماعت اسلامی کے موجودہ قومی اسمبلی کے ممبر شیراکبر خان کے بھائی اور بیٹے، بونیر کے حلقہ پی کے 77 سے صوبائی اسمبلی کے سابق ممبر اور دوہزار تیرہ کے انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والے حاجی جمشید خان کی تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت کے لئے منعقد کی گئی تھی، گزشتہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی کی جن دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اس میں بونیر کی این اے 28 بھی شامل تھی جن پر تحریک انصاف کے میاں معین الدین کے مقابلے میں جماعت اسلامی کا شیراکبر خان کامیاب قرار پائے تھے یاد رہے کہ میاں معین الدین، شیراکبر کے مقابلے میں چند سو ووٹوں سے ہار گئے تھے اور شہرام خان ترکئی نے نومبر 2015 میں ہی اپنی پارٹی کو پی ٹی آئی میں ضم کیا تھا جس کے بعد تحریک انصاف بونیر میں ایک مضبوط جماعت بن چکی تھی اور اب مضبوط ترین جماعت بن گئی. محمد شاہد خان نے ایم این اے شیر اکبر خان کے بھائی فاروق خان اور سابق ایم پی اے جمشید خان کا دلکش استقبال کیا اور قیادت کے ہر فیصلے کا دل سے خیر مقدم کیا.

اور 2013 میں چوں کہ شیراکبر جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے ممبر بنے تھے اس لئے کل کے جلسے میں انہوں تحریک انصاف میں باضابطہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا ہے البتہ ان کے بیٹے اور حاجی جمشید خان باضابطہ طور پر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے..

شیراکبر خان بونیر کے مشہور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، بونیر کا سیاسی طور پر سب سے مضبوط خاندان تصور کیا جاتا ہے، اس خاندان کے پاس اپنا ذاتی ووٹ بینک کافی موجود ہے اس لئے جب بھی موصوف کسی جماعت کا حصہ بن جاتا ہے تو قومی اسمبلی کی اور پی کے 78 کی سیٹ اس پارٹی کی پکی سمجھی جاتی ہے،__

بونیر میں شیراکبر اور جمشید خان کی تحریک انصاف میں شمولیت سے پہلے بھی ووٹ بینک کافی اور تینوں صوبائی حلقوں میں پھیلا ہوا تھا، اگر یہ دونوں تحریک انصاف کا حصہ نہ بھی بن جاتے تب بھی تحریک انصاف قومی اسمبلی کی سیٹ بغیر کسی مشکل کی جیت جاتی، ان کی شمولیت سے یہ ہوا کہ تینوں صوبائی حلقوں میں بھی تحریک انصاف کافی مضبوط ہوگئی ہے_ بلدیاتی انتخابات میں بھی تحریک انصاف نے ضلعی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی تھی لیکن عوامی نیشنل پآرٹی اور جماعت کے اتحاد سے تحریک انصاف اپوزیشن میں رہ گئی…

ضلع بونیر میں عمران خان کی آمد نے تو مخالفین کو حواس باختہ کردیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسرے اضلاع میں تحریک کتنی کامیاب رہتی ہے….

کے بارے میں admin

Check Also

کرم ایجنسی میں آی ڈی بم دھماکوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے کیپٹن حسنین سمیت چار ایف سی اہلکاروں کی نماز جنازہ

اراچنار : 🇵🇰🇵🇰🇵🇰 ؎ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »